نعت گوئی اور حسان بن ثابتؓ
نعت گوئی اور حسان بن ثابتؓ
ایسی شاعری جس میں پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد الرسول اللہ کی تعریف و تحسین کی گئی ہو وہ نعت کہلاتی ہے۔ عرب کی شاعری ہجویہ اور جذباتی تھی اور قرآنی افکار سے متصادم تھی۔ اس لئے قرآن حکیم نے ایسی شاعری کو پسند نہ فرمایا (شعرا کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں)۔ پھر فرمایا ”ہم نے آپ کو شعر کی تعلیم نہیں دی“ (سورة یٰسین 69)۔ قرآن مجید کے بارے فرمایا گیا ”یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں۔ محبوب علیہ السلام بھی عمومی طور پر شعر کی طرف راغب نہیں تھے۔ ایک تو یہ کہ شاعری مقام نبوت سے نہایت فروتر درجے کی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شعر سے قبائلی عصبیت و منافرت ابھرتی تھی جبکہ رسول اتفاق و اتحاد، محبت و الفت اور ہمدردی و دلجوئی کے داعی تھے۔
غور کیا جائے تو آیت کریمہ اور احادیث نبوی میں علی الاطلاق شعر کی مذمت نہیں۔ ہجائی اور ایذا رساں شاعری کی مذمت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی سرور عالم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ شعر میں گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا ”بے شک شعروں میں دانائی کی باتیں ہیں اور بعض باتیں جادو کا اثر رکھتی ہیں۔“
نعت کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام نے قبائلی عصبیت کو مٹا ڈالا۔ نظریاتی بنیادوں پر کفار و مومنین کے درمیان مہاجاة ہوئی۔ عبداللہ بن ابصری، ابو سفیان بن الحارث اور عرو بن العاص کفار کی طرف سے مشہور ہجو گو شاعر تھے۔ محبوب ؑ نے کفار کے مقابلے میں لسانی اور شعری معرکوں کے لئے حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہؓ کو مقرر فرمایا اور پھر ان کے نعتیہ اشعار سے متاثر ہو کر فرمایا ”یہ وہ لوگ ہیں جو قریش کے لئے تیروں کی بوچھا ڑسے بھی زیادہ سخت ہیں۔“
ایک مرتبہ حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا ”کفار کی ہجو کر، اللہ کی قسم تیری ہجو ان کے لئے تاریکیِ شب میں تیر لگنے سے بھی سخت تر ہے۔ تیرے ساتھ جبریل روح القدسؑ ہیں۔“ ان شاعران سحر بیانی نے ایک طرف تو دشمنان اسلام پر ہجو کے تیر برسائے تو دوسری طرف ممدوح کائنات کے حضور میں گلہائے عقیدت نچھاور کر دیے۔ یوں تو سارے کا سرا ذخیرہ حدیث نعت رسول ہی ہے تاہم امام محمد بن عیسیٰ ترمذی (209تا 279) نے شمائل نبوت میں جو 400احادیث کا لاجواب سرمایہ پیش فرمایا ہے اس میں معمولات مطہر اور فضائل و شمائل مقدس کا حسین ترین نعتیہ مرقع ہی تو پیش کیا گیا ہے۔
حضرت حسان بن ثابتؓ مدینہ میں پیدا ہوئے۔ عمر میں حضور سے کوئی آٹھ برس بڑے تھے۔ ہجرت مدینہ کے بعد 60برس کی عمر میں اسلام قبول کیا۔ کبرسنی کی وجہ سے جہاد بالسیف سے معذور رہے۔ قریش کی ہجو گوئی کے خلاف حضور نے شعرائے اسلام کو تحریض کی تو حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا کہ میں ان کی ہجو کروں گا۔ حضور نے فرمایا کہ میں بھی تو قریش ہی سے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کو ان میں سے یوں کھینچ نکالوں گا جیسے آٹے سے بال نکالا جاتا ہے۔ ابو سفیان بن الحارث نے ہجو کی تو انہوں نے جواباً کہا:
(ترجمہ) ”تو نے محمد کی ہجو کی میں جواب دیتا ہوں۔ اس کی اللہ کے ہاں جزا ہے۔ تو نے اس مبارک، نیک اور یکسو کی ہجو کی وہ امانت خداوندی کا امین ہے اور وفا اس کی خصلت ہے۔ میرے ماں باپ اور عزت محمد کی عزت کے تحفظ کی ڈھال ہے۔
آپؓ کی شاعری کا دیوان چھپ گیا ہے۔ اس کی کئی شروح لکھی گئی ہیں۔ محبوب کی جائز و مناسب تعریف و تحسین ہی آپ کی نعت کا درجہ رکھتی ہے ہر زمانے میں نعت گو پیدا ہوتے رہے ہیں۔ مولانا الطاف حسین حالی، علامہ محمد اقبال اور مولانا ظفر علی خان کی نعتیہ شاعری بھی بڑی قدر و منزلت رکھتی ہے۔
Comments
Post a Comment