Posts

Showing posts from August, 2022

نعت گوئی اور حسان بن ثابتؓ

  نعت گوئی اور حسان بن ثابتؓ ایسی شاعری جس میں پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد الرسول اللہ کی تعریف و تحسین کی گئی ہو وہ نعت کہلاتی ہے۔ عرب کی شاعری ہجویہ اور جذباتی تھی اور قرآنی افکار سے متصادم تھی۔ اس لئے قرآن حکیم نے ایسی شاعری کو پسند نہ فرمایا (شعرا کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں)۔ پھر فرمایا ”ہم نے آپ کو شعر کی تعلیم نہیں دی“ (سورة یٰسین 69)۔ قرآن مجید کے بارے فرمایا گیا ”یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں۔ محبوب علیہ السلام بھی عمومی طور پر شعر کی طرف راغب نہیں تھے۔ ایک تو یہ کہ شاعری مقام نبوت سے نہایت فروتر درجے کی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شعر سے قبائلی عصبیت و منافرت ابھرتی تھی جبکہ رسول اتفاق و اتحاد، محبت و الفت اور ہمدردی و دلجوئی کے داعی تھے۔ غور کیا جائے تو آیت کریمہ اور احادیث نبوی میں علی الاطلاق شعر کی مذمت نہیں۔ ہجائی اور ایذا رساں شاعری کی مذمت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی سرور عالم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ شعر میں گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا ”بے شک شعروں میں دانائی کی باتیں ہیں اور بعض باتیں جادو کا اثر رکھتی ہیں۔“ نعت کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام نے قبائ...