Posts

خطيب العرب في الجاهلية

    قيل لحكيم و خطيب العرب في الجاهلية قُسُّ بن ساعدة : ما أفضل المعرفة ؟ قال : معرفة الرجل بنفسه   قيل له : فما أفضل العلم ؟ قال : وقوف المرء عند علمه !   قيل له : فما أفضل المروءة ؟ قال : استبقاء الرجل ماء وجهه .    : العقد الفريد – الأندلسي ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عام 1472 اثناء بيع صكوك الغفران سأل رجل الراهب يوهان تيتزل إذا كان من الممكن شراء صك مغفرة لخطيئة سوف يرتكبها فى المستقبل فقال يوهان نعم شرط دفع المال مقدما ، فدفع الرجل المال ثم ذهب وانتظر يوهان خارج الكنيسة ، ثم قام بضربه وسرقته وقال له هذه الخطيئة التى دفعت المال ليغفرها الرب لي ! ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ كان المهلب بن أبي صفرة يوصي خدمه أن يقللوا من الماء ويكثروا من الطعام لضيوفه حتى لا يملأ الضيوف بطونهم بالماء بدلا من الطعام . . ووقف له رجل فقال :   أريد منك حويجة " تصغير حاجة " فقال المهلب اطلب لها رجيلا " تصغير رجل " يعنى أن مثلي لا يُسأل إلا حاجة عظيمة . 📕: العبر في خبر من غبر –الذهبي ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سئل حكيم عن أجمل حكمة قرأها في حياته فق...

نعت گوئی اور حسان بن ثابتؓ

  نعت گوئی اور حسان بن ثابتؓ ایسی شاعری جس میں پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد الرسول اللہ کی تعریف و تحسین کی گئی ہو وہ نعت کہلاتی ہے۔ عرب کی شاعری ہجویہ اور جذباتی تھی اور قرآنی افکار سے متصادم تھی۔ اس لئے قرآن حکیم نے ایسی شاعری کو پسند نہ فرمایا (شعرا کی پیروی گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں)۔ پھر فرمایا ”ہم نے آپ کو شعر کی تعلیم نہیں دی“ (سورة یٰسین 69)۔ قرآن مجید کے بارے فرمایا گیا ”یہ قرآن کسی شاعر کا کلام نہیں۔ محبوب علیہ السلام بھی عمومی طور پر شعر کی طرف راغب نہیں تھے۔ ایک تو یہ کہ شاعری مقام نبوت سے نہایت فروتر درجے کی چیز ہے۔ اور دوسرے یہ کہ شعر سے قبائلی عصبیت و منافرت ابھرتی تھی جبکہ رسول اتفاق و اتحاد، محبت و الفت اور ہمدردی و دلجوئی کے داعی تھے۔ غور کیا جائے تو آیت کریمہ اور احادیث نبوی میں علی الاطلاق شعر کی مذمت نہیں۔ ہجائی اور ایذا رساں شاعری کی مذمت ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ ایک اعرابی سرور عالم کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔ شعر میں گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا ”بے شک شعروں میں دانائی کی باتیں ہیں اور بعض باتیں جادو کا اثر رکھتی ہیں۔“ نعت کا آغاز اس وقت ہوا جب اسلام نے قبائ...